سپریم کورٹ نے تمام عدالتوں کے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے معطل  کردیئے

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2020 05:13pm
فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت تمام عدالتوں کے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے معطل  کردیئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے قیدیوں کی جیلوں سے رہائی کیخلاف اپیل پرسماعت کی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قیدیوں کی رہائی سےمتعلق ہائیکورٹس مختلف فیصلے دے رہی ہیں ،سپریم کورٹ گائیڈ لائن طے کرے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کورونا وائرس ایک سنجیدہ مسئلہ ہے ملک کوکن حالات کا سامنا ہے سب پتہ ہے ، تاہم کورونا کی وجہ سے اجازت نہیں دے سکتے کہ سنگین جرائم میں ملوث قیدی رہا کردیئے جائیں۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید کہاکہ دیکھنا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا، ہائی کورٹس سوموٹوکا اختیارکیسے استعمال کرسکتی ہیں؟ ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ چھوٹے جرائم میں ملوث ملزمان کورہائی ملنی چاہیے خوف نہ پھیلایا جائے ہائیکورٹ نے دہشتگردی کے ملزمان کے علاوہ سب کورہا کردیا، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آفت میں لوگ اپنے اختیارات سے باہرہوجائیں، یہ اختیارات کی جنگ ہے ان حالات میں بھی اپنے اختیارات سے باہر نہیں جانا جن کی دوتین ماہ کی سزائیں باقی رہتی ہیں ان کوچھوڑدیں۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت دیگرعدالتوں کے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے معطل  کردیئے۔

عدالت عظمیٰ نے ہائیکورٹس اورصوبائی حکومتوں کوقیدیوں کو رہا کرنے کے مزید احکامات سے روک دیا ۔

عدالت نے وفاق ، تمام ایڈووکیٹس جنرل ، انتظامیہ ، صوبائی سیکرٹریزداخلہ سمیت دیگرکونوٹس کرتے ہوئے سماعت بدھ تک کیلئے ملتوی کردی۔